✏️📚 #cepec #sindromededown #T21 #psicologia #pósgraduando #aprendizado (em Itapeba, Maricá, Rj) https://www.instagram.com/p/CHTPDdRjNrh/?igshid=70u0fz6z56h1
seen from United States
seen from United States
seen from France
seen from Denmark
seen from Canada
seen from United States
seen from United States
seen from China

seen from United States
seen from Russia
seen from Australia
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from Italy
seen from Finland
seen from Saudi Arabia
seen from Canada
seen from United States
seen from United States
✏️📚 #cepec #sindromededown #T21 #psicologia #pósgraduando #aprendizado (em Itapeba, Maricá, Rj) https://www.instagram.com/p/CHTPDdRjNrh/?igshid=70u0fz6z56h1
Aprendendo e agradecendo 🙏🏽🙏🏽🙏🏽 #cepec #t21 #sindromededown #drzanmustacchi #vivenciandopsicologia https://www.instagram.com/p/B7r0l6glYW_/?igshid=kgdz8e8rxy8b
چین نے سی پیک میں کرپشن کے امریکی الزامات مسترد کر دیے
چینی سفیر ژاؤ جنگ نے سی پیک میں کرپشن کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے۔ پانچویں سی پیک میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر ژاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ میڈیا کا سی پیک میں اہم کردار ہے، اس منصوبے کے تحت چین کے پاور پلانٹ کم ترین ریٹ پر بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پرعملدرآمد کرانے میں ہم ایک ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک پاکستان حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک میں کرپشن کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے چینی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا سپر پاور ہے، دنیا میں امن و استحکام امریکا کی ذمہ داری ہے، امریکا کی ڈپٹی اسٹیٹ سیکرٹری نے سی پیک پر بات کی لہذا امریکا سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے۔ واضح رہے کہ امریکی خارجہ امور کی نائب سیکرٹری ایلس ویلز نے الزام لگایا ہے کہ سی پیک اتھارٹی کو کرپشن سےمتعلق تحقیقات میں استثنیٰ حاصل ہے۔
کیا ہمارے پاس چین کے علاوہ کوئی اور آپشن ہے؟
چینی صدر ژی جن پنگ نے 26/27 اپریل کو بیجنگ میں دوسری بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے میزبانی کے فرائض انجام دیے، 125 ممالک اور 40 بین الاقوامی تنظیمیں بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو (بی آر آئی) سے منسلک ہو چکی ہیں۔ بی آر آئی ایک بہت ہی بلند نظر منصوبہ ہے جس کا مقصد پورے عظیم یوریشیائی قطعہ زمین اور اس کے قریب اور دور کنارے پر واقع جنوب مشرقی، جنوبی اور مغربی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے درمیان آپس میں جڑی زمین اور بحری انفرااسٹریچر، تجارت اور سرمایہ کاری کے تحت رابطہ قائم کرنا ہے۔ 37 سربرہانِ مملکت و حکومت، وزرا کی ایک کثیر تعداد اور 5 ہزار وفود نے اس فورم میں شرکت کی جو کہ بی آر آئی پر بڑھتی ہوئی رضامندی کی عکاس ہے۔ یہ قبولیت ترقی پذیر ممالک کے درمیان چین کی اقتصادی ترقی کے کامیاب ’ماڈل‘ کو اپنانے کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ منصوبہ عالمی اقتصادی پیداوار، زبردست خوشحالی اور ترقی پذیر ممالک میں امن اور استحکام کو جاتا انمول راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بی آر آئی کی شہہ سرخی کے ساتھ 175 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ 90 ارب ڈالر کے منصوبوں پر عمل ہو چکا ہے۔ جبکہ انفرا اسٹریچکر منصوبوں پر 1 ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بی آر آئی منصوبوں کی فنڈنگ میں باضابطہ غیر چینی مالی ذرائع اور نجی مالیاتی شعبے کی شمولیت سے مذکورہ عدد میں اضافے کا امکان بھی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس جیسے اشتراکی فورمز کی شمولیت اور اس کے ساتھ بی آر اسٹیڈیز نیٹ ورک سے وابستہ تھنک ٹینکس کے قیام پر غور کیا جارہا ہے۔ امریکا نے بی آر آئی پر اپنی مخالفت واضح کر دی ہے اور ترقی پذیر ممالک اور اپنے اتحادیوں کو اس منصوبے میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے سیاسی اور میڈیا مہم کی سرپرستی بھی کی۔ امریکا اور مغرب کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کی جانے والی چین کی قرضے میں پھانسنے کی حکمت عملی سے بچنے کی تلقین، کرپشن اور ناکام منصوبوں کی کہانیاں اتنی بار دہرائی گئی ہیں کہ اب اکتاہٹ ہونے لگی ہے جبکہ ایسی رپورٹس کو متعلقہ فریقین بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔
چین کے قرضوں کو لے کر جو نصیحیتیں کی جا رہی ہیں وہ تو خاص طور پر باعثِ کوفت ہیں کیونکہ 90 فیصد سے زائد ترقی یافتہ ممالک مغربی ملکوں اور اداروں کے مقروض ہیں۔ ان ترقی پذیر ممالک میں سالانہ 30 فیصد کے قریب نقدی کرنسی اسی قرضے کی قسط کی نذر ہو جاتی ہے۔ یہ قرضہ خراب مغربی ترقیاتی ’امداد‘ کا نتیجہ ہے جس نے وصول کنندہ ممالک کی ترقی میں بہت ہی معمولی کردار ادا کیا ہے۔ امریکی مخالفت کی اسٹریٹجک وجہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ دراصل یہ منصوبہ ’انڈیا پیسیفک‘ پر غلبہ قائم رکھنے کی خاطر چین کی سرحدوں پر اتحادیوں کا گھیرا بنانے کے امریکی مقصد کی کمر توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا کو اس جنگ میں اپنی تسلیم کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔
امریکا کے ایشیائی اتحادیوں میں سے کوئی بھی اپنے سب سے بڑے تجارتی ساتھی چین کو للکارنے کا دم خم نہیں رکھتا ہے۔ ہندوستان نے واضح کر دیا کہ یہ چین کے ساتھ اقتصادی اشتراک کو اہمیت دیتا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے بحیرہ جنوبی چین میں ’فریڈم آف نویگیشن‘ آپریشنز میں امریکی نیوی میں شامل ہونے سے خود کو روک دیا ہے۔ جاپان امریکی محصولات سے بیزار آ کر بی آر آئی میں ’تھرڈ پارٹی‘ (تیسرے فریق) کے طور پر شامل ہو چکا ہے۔ بی آر آئی منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے جاپان چائنہ فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ 17 وسطی یورپی ممالک نے اقتصادی اشتراک بشمول رابطہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر ایک گروپ قائم کیا ہے۔ اٹلی ’جی 7‘ کا وہ پہلا ملک ہے جس نے باضابطہ طور پر بی آر آئی میں شامل ہوا۔ حتیٰ کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے دیگر ممالک، جو اپنے اتحادی امریکا کے ہاتھوں بی آر آئی پر تنقید کرنے کے لیے مجبور محسوس کرتے ہیں، وہ بھی چین کی اقتصادی وسعت اور بی آر آئی سے حاصل ہونے والے ہر ایک تجارتی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔
امریکا کی اپنی کمپنیاں باضابطہ بائیکاٹ پر دھیان دینے کے موڈ میں نظر نہیں آتیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد امریکی کمپنیاں چینی معیشت کے دائرے میں رہ کر کام کر رہی ہیں۔ محض چند ایک کا ہی باہر نکلنے کا امکان ہے۔ چین کے مزید ’دروازے کھلنے‘ سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے باہمی انحصار کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان بی آر آئی کے ایک اہم حصے کا میزبان ہے۔ وزیراعظم عمران خان ان 7 سربراہان میں سے ایک تھے جنہوں نے کانفرنس کو خطاب کیا۔ انہوں نے بی آر آئی کو ساتھ مل کر کام کرنے، شراکت داری، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کا ایک ماڈل اور عالمگیریت کی طرف لے جاتے ایک نئے اور منفرد مرحلے کا آغاز قرار دیا۔ سی پیک دو طرفہ تعلقات میں مضبوط تر بنانے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ بی آر آئی منصوبوں میں مختص کیے جانے والے ایک ہزار ارب ڈالر میں سے 72 ارب ڈالر سی پیک کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک 90 ارب ڈالر کی جو سرمایہ کاری ہوئی ہے اس میں سے تقریباً 27 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی گئی۔
چین پاکستان کے ساتھ اپنی ’اسٹریٹجک شراکت داری‘ کو اہمیت دیتا ہے اور اس کی سالمیت، استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کی اہمیت سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان قائم باہمی اعتماد کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنی قوت مزاحمت کے توازن کو برقرار رکھنے اور افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے چین کا تعاون نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر ہندوستان کبھی پاکستان کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کے لیے تیار بھی ہو جاتا ہے تو امریکا سے زیادہ چین اور شاید روس کی مصالحت زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ چین میں پاکستان کے لیے موقع نہایت اہم ہے۔ چین پاکستان میں انفرااسٹریکچر کی تعمیر اور صنعت کاری میں تعاون کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کی برآمدات کے لیے ایک پھلتی پھولتی ہوئی منڈی ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا مقصد چین کی پیداوار کے راستے کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھ کر اس کو مزید بہتر بنانا بھی ہونا چاہیے۔
پاکستان کا مقصد 21 ویں صدی کی معاشی ساخت کے پیچھے دوڑنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ اس تعاون سے ماضی یا حال کی ٹیکنالوجیز کے حصول کی کوششیں کرنی ہیں اور ساتھ ساتھ مستقبل کی ان ٹیکنالوجیز اپنے پاس لانے کے لیے کوشاں رہنا ہو گا جنہیں چین اس وقت متعارف کر رہا ہے اور جن پر عمل پیرا ہے، مثلاً ہائی اسپیڈ ریل (پرانے نظام والی نہیں بلکہ جدید)، اے ون، برقی گاڑیاں، ماحول دوست توانائی، ای کامرس وغیرہ۔ پاکستان کو چاہیے وہ خود کو بہتر انداز میں منظم کرے۔ اسلام آباد کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ وہ چین سے کیا چاہتا ہے اور اسے کیا کچھ درکار ہے، اور انہیں کس طرح حاصل کیا جائے، اس حوالے سے ایک حکمت عملی مرتب کرنی ہو گی۔ اس قسم کی حکمت عملی کو پالیسی، عملی اور تکمیلی سطح پر چین کے ساتھ مربوط رکھنا ضروری ہو گا۔ پاکستان کو تعاون کے ہر ایک معاملے میں پاکستان کے اندر اور باہر موجود نجی یا سرکاری شعبے سے وابستہ سب سے بہترین دستیاب تکنیکی اور انتظامی ماہرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔ ایک خود مختار سی پیک اتھارٹی کا قیام اپنی منشا کے مطابق نتائج کے حصول میں مددگار رہے گا۔
عظیم طاقت کی جاری دوڑ کے باعث رفابت سے بھرپور اس ماحول میں اسلام آباد کو اسٹریٹچک اعتبار سے واضح مؤقف اپنانا ہو گا۔ ہندوستان کی دشمنی تو مستقل جاری رہے گی، ممکن ہے کہ انتخابات کے بعد یہ دشمنی، تناؤ یا پھر دوسرے کو پچھاڑنے کی دوڑ تک محدود ہو جائے۔ امریکی ساؤتھ ایشیا حکمت عملی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان خطے میں غالب ہو۔ ایسی کسی خوش فہمی میں متبلا سوچ کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی کہ خیر سگالی یا ہوشیار سفارتکاری کے اظہار سے اس حکمت عملی کو بدلنا ممکن ہے۔ امریکا پاکستان کو اس وقت ہی مساوی نظر سے دیکھے گا جب اسے پاکستان میں پرکشش اقتصادی مواقع نظر آئیں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو چین کا تعاون درکار ہے۔ پاکستان کے پاس سب سے اچھا آپشن یہی ہے کہ وہ ’خود کو چین کے ساتھ لوہے کے چھلوں کے سے باندھ دے’ کہ یہی تجویز 1962ء میں اس وقت کے وزیر خارجہ ایس کے دہلوی نے بھی دی تھی۔ اس نادر موقع کو ایک بار پھر ٹھکرانا ہمارے لیے کسی سانحے سے کم نہیں ہو گا۔
منیر اکرم یہ مضمون 24 اپریل 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
شی جن پنگ کا نظریہ اور چینی خواب
’چین کی ترقی‘ کے عنوان سے ڈی ڈبلیو کی اس سیریز میں عالمی افق پر چین کے ایک سپر پارو بننے کے سفر کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی جا رہی ہے۔ اس آرٹیکل میں اس ’چینی تصور‘ کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کا تعلق صدر شی کے نظریات سے ہے۔ باقی دنیا حیرت سے اپنی آنکھیں مل رہی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں کے دوران چین نے بہت تیزی سے اقتصادی ترقی کی اور ایک غریب ترقی پذیر ملک سے ایک بڑی صنعتی طاقت بن گیا۔ آج کل چین اپنی نظریں ’ورلڈ پاور‘ بننے پر جمائے ہوئے ہے۔
تاہم موجودہ حالات میں چین کی صنعتی ترقی اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خوف اور ستائش کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چینی عوام اور خاص طور پر بیجنگ میں سیاسی حلقے اپنے ملک کی اس ترقی کو تاریخی غلطیوں کا ازالہ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس سوچ کو بیجنگ کے شعبہ پروپیگنڈا نے پروان چڑھایا ہے اور اس کا تعلق صدر شی جن پنگ کے سیاسی فلسفے سے بھی ہے۔ 2012ء میں شی جن پنگ کے صدر بننے کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی رہنماؤں نے چینی عوام سے ماضی کی شہنشاہیت جیسی عظمت و شان کی واپسی کا وعدہ کیا تھا۔
ذلت و رسوائی کے سو سال 1842ء میں اسلحے کے زور پر چینی بندرگاہوں کو برطانوی ’افیون‘ کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے ’افیون کی جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس دوران چین کے ساتھ نام نہاد ’غیر منصفانہ معاہدے‘ کیے گئے اور اس طرح چین کو مجبور کیا گیا کہ وہ ہانگ کانگ کا نظم و نسق برطانیہ کے حوالے کر دے۔ اس ’ذلت آمیز‘ صدی کا رسمی طور پر اختتام 1949ء میں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے ساتھ ہوا تھا۔ 2049ء گلوبل سپر پاور چینی قوم کو دوبارہ عظیم الشان بنانے کے منصوبے 2049ء تک جاری رہیں گے اور اس طرح عوامی جمہوریہ چین اپنے قیام کی ایک سو ویں سالگرہ تک عالمی طاقت بن چکا ہو گا۔ جب بات چینی قوم کے عظیم الشان ماضی کی ہو تو شہری حقوق یا پیچیدہ آئینی مقدمے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔ ناقدین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے وکلاء کو بھی جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ذرائع ابلاغ کی وہ آزادیاں بھی چھینی جا سکتی ہیں، جو انہوں نے بہت جدوجہد کے بعد حاصل کی ہیں۔ چینی تصور یا خواب کا نظریہ نہایت مبہم بھی ہے اور ساتھ ہی اس قدر جامع بھی ہے کہ اس سے کئی طرح کے پیغامات اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
شاہراہ ریشم سے دنیا کے مرکز میں چینی نظریے کے تحت شی جن پنگ کے متعدد منصوبے آتے ہیں اور ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ کا منصوبہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ اس کے تحت یورپ، افریقہ اور ایشیا میں بنیادی ڈھانچوں اور سڑکوں کے جال بچھانے کی خاطر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ آج کے دور میں اس منصوبے کے ساتھ چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو کسی عالمگیر نظریے پر کام کر رہا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق بھی نہیں ہے کہ ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ منصوبے کو جدید شاہراہ ریشم بھی کہا جا سکتا ہے۔ چین سرمایہ کاری کی اپنی ماہرانہ پالیسیوں کے تحت اس اقتصادی طاقت کو سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ نقل و حمل کا نیا جال اور نئے اقتصادی رابطے یقینی طور پر چینی نظریے کے ترقی میں کردار ادا کریں گے۔
بشکریہ DW اردو
Feliz dia das mães, Do Teatro Alagoano, Que estes e todos sejam vividos e sentidos com muito amor e poesia. 😘 #PraCegoVer Flyer digital. Sob fundo azul, à esquerda fotografia da personagem Aracy, da peça Nem Morta. Ela pisca o olho direito, sorri e segura com as mãos em frente ao peito um buquê. À direita, em branco: " Amar aquele jeitinho doce. #FELIZDIADASMÃES" Abaixo, as logos do CEPEC e do Espetáculo Nem Morta. . . . . . . . . . #NemMorta #cepec #diadasmães #instateatro #teatrodeodoro #maceioalagoas #
Scientists Uncover the Genetic History of Cocoa in Brazil
Scientists Uncover the Genetic History of Cocoa in Brazil
The saga of cocoa (Theobroma cacao) in southern Bahia is part of Brazil’s economic and cultural history. If it had not been for the successful introduction of cocoa into the Ilhéus region in the eighteenth century, there would have been no cocoa cycle in Bahia, and Jorge Amado would not have been inspired to write Gabriela, Clove and Cinnamon.
However, the glory of Bahian cocoa belongs to the…
View On WordPress
Présentation du CEPEC
Les enclos du CEPEC.
Aujourd’hui, sur Terrario Data, nous avons décidé de vous faire une petite présentation d’un projet qui nous tient à cœur. Le Centre d’Etudes de Protection et d’Elevage des Chéloniens, qui est basé dans le Gard, est un projet qui a été porté par M. Vincent MORCILLO, qui en est aujourd’hui le responsable et s’occupe au quotidien de ses nombreuses pensionnaires. Passionné et…
View On WordPress