seen from United States

seen from United States

seen from United States

seen from Malaysia
seen from United States
seen from Netherlands

seen from Malta

seen from Georgia
seen from United States
seen from United States
seen from United States
seen from United States

seen from United States

seen from Germany
seen from China
seen from United States

seen from Malaysia
seen from United Kingdom
seen from Spain

seen from United States
This man can make anything so ✨ beautiful & aesthetic ✨
Ily Ali 💖
سدا بہار ❤️ آواز : عالمگیر حق
گوری پنکھٹ پہ ٹھہرو
فیض احمد فیض آج کے نام
اور آج کے غم کے نام آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا زرد پتوں کا بن زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے درد کی انجمن جو مرا دیس ہے کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام پوسٹ مینوں کے نام تانگے والوں کا نام ریل بانوں کے نام کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام بادشاہ جہاں والئ ماسوا، نائب اللہ فی الارض دہقاں کے نام جس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئے جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھا لے گئے ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے دھجیاں ہو گئی ہے ان دکھی ماؤں کے نام رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیں دکھ بتاتے نہیں منتوں زاریوں سے بہلتے نہیں ان حسیناؤں کے نام
جن کی آنکھوں کے گل چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے مرجھا گئے ہیں ان بیاہتاؤں کے نام جن کے بدن بے محبت ریاکار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیں بیواؤں کے نام کٹٹریوں اور گلیوں محلوں کے نام جن کی ناپاک خاشاک سے چاند راتوں کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا آنچلوں کی حنا چوڑیوں کی کھنک کاکلوں کی مہک آرزومند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو پڑھنے والوں کے نام وہ جو اصحاب طبل و علم کے دروں پر کتاب اور قلم کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے وہ معصوم جو بھولے پن میں وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن لے کے پہنچے جہاں بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے
ان اسیروں کے نام جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میں جل جل کے انجم نما ہوگئے ہیں آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام وہ جو خوشبوئے گل کی طرح اپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں
نظم : انتساب
گلوکارہ : نیرہ نور
شاعر : فیض احمد فیض
Badlaan our now Link : https://youtu.be/IrVHJrbMUGM
There is a deep line in Bayaan (Nahin Milta) song:
"Jis ko jo bhi milta hai bey-sabab nahin milta, mujh se bole man mera sab ko sab nahi milta."
We all relate to this.
How broken was Sunny Khan Durrani when he wrote:
"Reh raha hoon yahan sirf ghar walon ki khaatir, warna aitraaz nahi agar ruk jayen saansein"
ye tamannā hai ki āzād-e-tamannā hī rahūñ,
dil-e-māyūs ko mānūs-e-tamannā na banā
It has always been confusing for me as to what state are humans to assume. To be hopeful again hopes which is very hurtful or find solace in despair, have minimal or no hopes so that nothing can bother you anymore.