How broken was Talha Anjum when he wrote;
Hum pehle aashiq tou nahi hain jaaneman,
Yeh ishq kha gaya bari jawaniyaan
seen from Germany

seen from United States

seen from T1

seen from United Kingdom
seen from China

seen from Malaysia
seen from United States

seen from Malaysia

seen from United Kingdom
seen from China
seen from China
seen from Germany

seen from Netherlands
seen from Türkiye

seen from Germany
seen from Türkiye
seen from Germany

seen from United States
seen from United States
seen from Yemen
How broken was Talha Anjum when he wrote;
Hum pehle aashiq tou nahi hain jaaneman,
Yeh ishq kha gaya bari jawaniyaan
चाहत है उन्हें और उड़े दास्ताँ अपनी,
कहते हैं मगर नाम वो गुमनाम लिखूँ मैं।
Woh ankhon ankhon ma kar gaya kuch is trha batein ky
Kanoon kaan kisi ko khabr tak na hui!
وہ آنکھوں آنکھوں میں کر گیا کچھ اس طرح باتیں کہ
کان و کان کسی کو خبر تک نا ہوئ!
Two seconds too long
Do pal zyada unse nazrein mili reh gayi
Ab kya kahein hum
Ke aankhein sab kuch keh gayi
- sonya
استاد مرحوم, ابنِ انشا کی یادگار تحریر
استاد مرحوم نے اہلِ زبان ہونے کی وجہ سے طبیعت بھی موزوں پائی تھی اور ہر طرح کا شعر کہنے پر قادر تھے۔ اردو، فارسی میں ان کے کلام کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو غیر مطبوعہ ہونے کی وجہ سے اگلی نسلوں کے کام آئے گا۔ اس علم و فضل کے باوجود انکسار کا یہ عالم تھا کہ ایک بار اسکول میگزین میں جس کے یہ نگران تھے، ایڈیٹر نے استاد مرحوم کے متعلق یہ لکھا کہ وہ سعدی کے ہم پلہ ہیں، انہوں نے فوراً اس کی تردید کی۔ سکول میگزین کا یہ پرچہ ہمیشہ ساتھ رکھتے اور ایک ایک کو دکھاتے کہ دیکھو لوگوں کی میرے متعلق یہ رائے ہے حالانکہ من آنم کہ من دانم۔ ایڈیٹر کو بھی بلا کر سمجھایا کہ عزیزی یہ زمانہ اور طرح کا ہے۔ ایسی باتیں نہیں لکھا کرتے۔ لوگ مردہ پرست واقع ہوئے ہیں۔ حسد کے مارے جانے کیا کیا کہتے پھریں گے۔ اہل علم خصوصاً شعرا ء کے متعلق اکثر یہ سنا ہے کہ ہم عصروں اور پیشروؤں کے کمال کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں، استاد مرحوم میں یہ بات نہ تھی، بہت فراخ دل تھے۔
فرماتے، غالب اپنے زمانے کے لحاظ سے اچھا لکھتے تھے۔ میر کے بعض اشعار کی بھی تعریف کرتے۔ امیر خسرو کی ایک غزل استاد مرحوم کی زمین میں ہے۔ فرماتے، انصاف یہ ہے کہ پہلی نظر میں فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی (غزل) بہتر ہے۔ پھر بتاتے کہ امیر خسرو سے کہاں کہاں محاورے کی لغزش ہوئی ہے۔ اقبال ؒ کے متعلق کہتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایسا شاعر اب تک پیدا نہ ہوا تھا۔ اس شہر کو ان کی ذات پر فخر کرنا چاہیے۔ ایک بار بتایا کہ اقبالؒ سے میری خط و کتابت بھی رہی ہے۔ دو تین خط علامہ مرحوم کو انہوں نے لکھے تھے کہ کسی کو ثالث بنا کر مجھ سے شاعری کا مقابلہ کر لیجئے۔ راقم نے پوچھا نہیں کہ ان کا جواب آیا کہ نہیں۔ استاد مرحوم کو عموماً مشاعروں میں نہیں بلایا جاتا تھا کیوں کہ سب پر چھا جاتے تھے اور اچھے اچھے شاعروں کو خفیف ہونا پڑتا۔ خود بھی نہ جاتے تھے کہ مجھ فقیر کو ان ہنگاموں سے کیا مطلب۔ البتہ جوبلی کا مشاعرہ ہوا تو ہمارے اصرار پر اس میں شریک ہوئے اور ہر چند کہ مدعو نہ تھے منتظمین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
دیوانہ کسمنڈوی، خیال گڑگانوی اور حسرت بانس بریلوی جیسے اساتذہ سٹیج پر موجود تھے، اس کے باوجود استاد مرحوم کو سب سے پہلے پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ وہ منظر اب تک راقم کی آنکھوں میں ہے کہ استاد نہایت تمکنت سے ہولے ہولے قدم اٹھاتے مائیک پر پہنچے اور ترنم سے اپنی مشہور غزل پڑھنی شروع کی ۔ ہے رشت غم اور دلِ مجبور کی گردن ہے اپنے لئے اب یہ بڑی دور کی گردن ہال میں سناٹا سا چھا گیا۔ لوگوں نے سانس روک لئے۔ استاد مرحوم نے داد کے لئے صاحب صدر کی طرف دیکھا لیکن وہ ابھی تشریف نہ لائے تھے، کرسیِٔ صدارت ابھی خالی پڑی تھی۔ دوسرا شعر اس سے بھی زور دار تھا۔ صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا اور دار پہ ہے حضرتِ منصور کی گردن دوسرا مصرع تمام نہ ہوا تھا کہ داد کا طوفان پھٹ پڑا۔ مشاعرے کی چھت اڑنا سنا ضرور تھا، دیکھنے کا اتفاق آج ہوا۔ اب تک شعراء ایک شعر میں ایک مضمون باندھتے رہے ہیں اور وہ بھی بمشکل۔ اس شعر میں استاد مرحوم نے ہر مصرع میں ایک مکمل مضمون باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔
لوگ سٹیج کی طرف دوڑے۔ غالباً استاد مرحوم کی پابوسی کے لئے۔ لیکن رضا کاروں نے انہیں باز رکھا۔ سٹیج پر بیٹھے استادوں نے جو یہ رنگ دیکھا تو اپنی غزلیں پھاڑ دیں اور اٹھ گئے۔ جان گئے تھے کہ اب ہمارا رنگ کیا جمے گا۔ ادھر لوگوں کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ تیسرے شعر پر ہی فرمائش ہونے لگی مقطع پڑھیے مقطع پڑھیے۔۔۔۔ چوتھے شعر پر مجمع بے قابو ہو رہا تھا کہ صدرِ جلسہ کی سواری آگئی اور منتظمین نے بہت بہت شکریہ ادا کر کے استاد مرحوم کو بغلی دروازے کے باہر چھوڑ کر اجازت چاہی۔ اب ضمناً ایک لطیفہ سن لیجئے۔ دوسری صبح روزنامہ''پتنگ‘‘نے لکھا کہ جن استادوں نے غزلیں پھاڑ دی تھیں، وہ یہ کہتے بھی سنے گئے کہ عجب نامعقول مشاعرے میں آ گئے ہیں۔ لوگوں کی بے محابا داد کو ہوٹنگ کا نام دیا اور استاد مرحوم کے اس مصرع کو'' صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا‘‘، لا علمی ، شرارت اور ''سرقہ‘‘ قرار دیا۔ پھر اس قسم کے فقروں کا کیا جواز ہے کہ ''استاد چراغ شعر نہیں پڑھ رہے تھے روئی دھن رہے تھے۔‘‘ صحیح محاورہ روئی دھننا نہیں روئی دھنکنا ہے۔ اس دن کے بعد سے مشاعرے والے استاد مرحوم کا ایسا ادب کرنے لگے کہ اگر استاد اپنی کریم النفسی سے مجبور ہو کر پیغام بھجوا دیتے کہ میں شریک ہونے کے لئے آ رہا ہوں تو وہ خود معذرت کرنے کے لئے دوڑے آتے کہ آپ کی صحت اور مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ ہمیں (ان کے نا چیز شاگردوں کو) بھی رقعہ آ جاتا کہ معمولی مشاعرہ ہے، آپ کے لائق نہیں۔ زحمت نہ فرمائیں۔
بشکریہ دنیا نیوز
ڈاکٹر صفدر محمود : ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
ڈاکٹر صفدر محمود لگ بھگ پون صدی گزار کر اِس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ انہیں کس طرح یاد کیا جائے، وہ الفاظ کہاں سے لائے جائیں، جو ان کی شخصیت کا احاطہ کر سکیں یا اُن کی تحقیق و جستجو کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔ وہ ایک بڑے سرکاری افسر تھے، مؤرخ تھے‘ محقق تھے، اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے۔ انکی بیس سے زائد کتابیں شائع ہو کر قبولِ عام حاصل کر چکی ہیں۔ کالم نگار کے طور پر انہوں نے اپنا لوہا منوایا۔ بین الاقوامی اداروں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، غیرملکی یونیورسٹیوں میں لیکچر دیے، پاکستان اور تحریک پاکستان کی روح سے اپنوں اور غیروں کو متعارف کرایا۔ ان کی کئی حیثیتیں تھیں، اور وہ ہر حیثیت میں ممتاز تھے، لیکن جس بات نے انہیں ممتار تر، بلکہ ممتاز ترین بنا دیا تھا وہ پاکستان اور بانیٔ پاکستان سے انکی محبت تھی، لاریب وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے سربکف محافظ تھے۔
جب بھی کوئی شخص ان پر حملہ آور ہوتا وہ جھپٹتے، اور اسے چاروں شانے چت گرا دیتے۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلانے والے ان کے افکار و کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کرنیوالے آج بھی موجود ہیں، دانشور کہلاتے اور اپنے آپ کو محقق بتلاتے ہیں لیکن ان کو تحقیق کی ت تک چھو کر نہیں گزری۔ اور تو اور، قراردادِ لاہور کو سر ظفراللہ خان سے منسوب کرنے کی جسارت کرنیوالے بھی ایک زمانے میں دندنانے لگے تھے۔ چودھری صاحب کو اس بات کا کریڈٹ دیا جارہا تھا، جس کا انہوں نے کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ قائداعظمؒ کے منہ میں بھی ایسے الفاظ ڈالے جا رہے تھے، اور ڈالے جا رہے ہیں جو انہوں نے کبھی ادا ہی نہیں کیے۔ ڈاکٹر صفدر محمود ایسے ہر موقع پر سینہ سپر ہو جاتے۔ تاریخی حقائق کو منظرعام پر لاتے اور جھوٹوں کو گھر تک پہنچا کر آتے۔ برادر عزیز منیر احمد منیر کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ شرف عطا کیا ہے۔ وہ صحافت سے تحقیق کی طرف گئے اور اپنے آپ کو قائداعظمؒ کے ذکروفکر کیلئے مختص کر دیا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا یہی ہے، اور اس حوالے سے وہ بھی ہمارے سرکا تاج ہیں۔
ڈاکٹر صفدر محمود کو بھی ان کی لگن اور جستجو نے مؤرخ تحریک پاکستان بنا دیا تھا۔ جب بھی کوئی الجھن درپیش ہوتی، ان سے رابطہ کیا جاتا۔ وہ اسے چٹکیاں بجاتے رفع کر دیتے، اگر شرح صدر نہ ہو پاتی تو مہلت طلب کرتے، کان میں اتر کر گوہر مقصود تلاش کر لاتے۔ ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھے، اور وہاں پڑھایا بھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹر منیرالدین چغتائی کے زیر نگرانی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج میں انہیں پروفیسر منور مرزا کی صحبت عطا ہوئی۔ ان کے سائے میں بڑھے، پھلے اور پھولے۔ پروفیسر محمد منور مرزا پاکستان کی نظریاتی اساس کو مضبوط کرنے میں لگے رہے۔ اپنے شاگردوں کے دِل و دماغ میں پاکستان کی محبت بھر دینا ان کا مقصدِ زندگی تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود نے پروفیسر منور مرزا سے استفادے کا حق ادا کیا، اور ان کی تصویر بن گئے۔ ان کے خدوخال اپنے تھے، اسلوب اپنا تھا، وہ تقریر کے نہیں تحریر کے دھنی تھے، لیکن لہو میں حرارت استاد کی سی تھی۔
گورنمنٹ کالج ہی میں میاں نواز شریف کو ڈاکٹر صاحب کی شاگردی بھی نصیب ہوئی اور ان کی وزارت کے اولین ایام نے ڈاکٹر صاحب کی انگلی بھی پکڑے رکھی۔ حاجی محمد اکرم، چودھری سردار محمد جیسے جیّد افسروں کے ساتھ مل کر ڈاکٹر صاحب نے وہ مثلث بنائی جسے نوجوان وزیراعلیٰ پنجاب کا حصار بننا تھا۔ ڈاکٹر صاحب مقابلے کے امتحان کے ذریعے سرکاری افسر بنے تھے۔ انکم ٹیکس کے محکمے میں ایک عرصہ گزارا، انٹیلی جنس بیورو میں بھی ان کا تقرر ہوا، فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین مقرر ہوئے، صوبائی سیکرٹری رہے، وفاق میں پہنچے تو وزیراعظم ہائوس کو رونق بخشی۔ مختلف وزارتوں کے سیکرٹری رہے، او ایس ڈی بھی بنائے گئے لیکن تاریخ اور تحقیق سے ناتہ نہیں ٹوٹنے دیا۔ ان کی کتابیں چھپتی رہیں، اور ان کے حلقۂ عقیدت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے بھی وہ قلمی نام سے کالم لکھتے رہتے تھے، روزمرہ سیاست سے ان کی دلچسپی کم نہیں تھی، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد تو یہ سلسلہ باقاعدہ ہو گیا۔ ان پر روحانیت کا غلبہ بھی ہوتا چلا گیا۔ بابوں کی تلاش کرتے کرتے وہ خود بھی بابے بن گئے تھے۔
تاریخ و تحقیق کا دامن انہوں نے آخر دم تک پکڑے رکھا۔ اسی بات نے ان کے کالموں کی تازگی برقرار رکھی۔ ایک سال پہلے ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ''سچ تو یہ ہے‘‘ کے زیر عنوان شائع ہوا تو اس نے دھوم مچا دی۔ علامہ عبدالستار عاصم نے اسے اس طرح چھاپا، اور پھیلایا کہ ایڈیشن پر ایڈیشن شائع ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اگر وہ کچھ اور نہ لکھتے تو یہی مجموعہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔ اس میں درج کالم کس پس منظر میں لکھے گئے، اسے انہی کے الفاظ میں سن لیجیے: ''یہ کوئی سات آٹھ برس قبل کی بات ہے کہ ایک روز مجھے پنجاب کے ایک دور افتادہ ضلعی مقام سے بی اے کی ایک طالبہ کا فون آیا۔ اس نے میری آواز سنتے ہی پوچھا: کیا آپ نے فلاں صاحب کا کالم پڑھا ہے، میرا جواب 'نہیں‘ میں سن کر وہ رونے لگی۔ اس نے روتے ہوئے مجھے بتایا کہ اس دانشور نے قائداعظمؒ کے بارے میں بڑی تکلیف دہ اور غلط باتیں لکھی ہیں، اور اسکے اندازِ تحریر سے گستاخی یا بدتمیزی کی بدبو آتی ہے.
مَیں نے وہ کالم پڑھا، پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ محترم لکھاری نے تحقیق کی ہے نہ ہی بنیادی تاریخی حقائق کا ادراک رکھتے ہیں، بس جوشِ تحریر میں قائداعظم پر الزامات لگانے کا شوق پورا کر لیا ہے؛ چنانچہ مَیں نے ان کے کالم کا تاریخی مواد کے حوالے دے کر جواب دے دیا۔ انہوں نے چپ سادھ لی‘‘۔ ڈاکٹر صاحب کم و بیش ایک سال بیمار رہے۔ انکے بیٹے امریکہ میں مقیم ہیں، وہ انہیں وہاں لے گئے، لیکن صحت بحال نہ ہو سکی۔ پاکستان واپس آئے تو دنیا و مافیہا سے بے خبر تھے۔ چند ہفتے اسی کیفیت میں گزار کر وہاں جا بسے جہاں بالآخر ہم سب کو جانا ہے۔ وہ آہوئے بے تاب تھے، ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے، لکھتے یا پڑھتے رہتے۔ جلوت سے زیادہ خلوت راس آ گئی تھی، مجلسوں اور مذاکروں سے گریزاں رہتے۔ اخباری انٹرویوز سے بھی خود کو بچائے رکھتے۔ میری شدید خواہش تھی کہ ان کا تفصیلی سوانحی انٹرویو ریکارڈ ہو جائے۔ اس کیلئے عزیزم حامد ولید کو تیار کر لیا تھا۔ انہوں نے برادرم شاہد رشید کے ذریعے وقت بھی لیا، لیکن جس روز یہ کام ہونا تھا، اسی روز ان پر مرض کا حملہ ہوا، اور وہ ہسپتال جا پہنچے، حافظہ متاثر ہوا، قوتِ گویائی بھی۔ ان کی زندگی کی کہانی، ان کی زبانی سننے کی حسرت دِل ہی میں رہ گئی۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا/ ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
مجیب الرحمٰن شامی
بشکریہ دنیا نیوز
فاصلے اہمیت نہیں رکھتے
تعلق میں مخلصی ہونی چاہیے
Fasly Ahmiyat nahi rakhty
Talkuq main Mukhlsi honi chahiye
When you sit down to read me Put your hands on your eyes Tell me, have you ever seen a cloud laugh Fragrance coming from a flash of lightning Sprouting in the courtyard, Has the sea ever stepped into the folds of a dress to drown? If you sit down to read me Then don’t look at the shadows Don’t look at ash from dying embers because with these hands Heat at the heart of flames turns into words. My lips grant words To dead visions. Hearing my footfall The sails of boats put on desires and journeys, But who am I? Eyes Or deserts, cheerless winds, Bodies with the rusting honour still clinging on My steps in the wild swamps. Wounds laugh. Reading me If the eye placed on your hand drifts and runs Then you may laugh.
Kishwar Naheed, trad. Asif Farrukhi. At: A two-brick room, p. 122